کراچی: نوجوان تاجر میر رضا علی کے پراسرار قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے گلستانِ جوہر میں واقع ایک مشکوک گیسٹ ہاؤس کو سیل کر دیا ہے جبکہ کیس میں اب تک مجموعی طور پر 19 افراد کو شاملِ تفتیش کیا جا چکا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گیسٹ ہاؤس کے 6 ملازمین سمیت سوئفٹ کار میں آنے والے مزید 4 افراد کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ زیرحراست افراد سے نئی تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم پوچھ گچھ کرے گی۔

تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے میر رضا علی کے 28 جولائی کو ہونے والے رابطوں کی بھی تفصیلات حاصل کرلی ہیں اور اس روز آخری فون کالز اور پیغامات بھیجنے والے افراد سے تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میر رضا نے 28 جولائی کی شب 2 بج کر 13 منٹ اور 2 بج کر 16 منٹ پر علی نامی شخص سے فون پر بات کی، جبکہ آخری فون کال ان کے دوست عبداللہ نے ریسیو کی۔ دونوں کے درمیان 3 منٹ سے زائد گفتگو ہوئی۔

گیسٹ ہاؤس اور آخری رابطے تفتیش کا مرکز

پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات آگے بڑھا رہی ہے جبکہ مشکوک گیسٹ ہاؤس کو سیل کیے جانے کے بعد وہاں موجود افراد اور سرگرمیوں کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔

واضح رہے کہ 25 سالہ تاجر میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے۔ اگلے روز ان کی گولی لگی لاش گلستانِ جوہر کے شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔

کیس کی تحقیقات کے لیے نئی تفتیشی ٹیم تشکیل دی گئی ہے اور پولیس کی جانب سے واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔