جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ سندھ کی بڑی آبادی اور وسیع رقبے کے باعث بدین سے گھوٹکی تک پورے صوبے کو کراچی سے نہیں چلایا جاسکتا، اسی طرح رحیم یار خان سے اٹک تک پنجاب کو لاہور سے چلانا بھی ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو ڈی آئی خان سے چترال تک پشاور سے اور بلوچستان کو پسنی سے ژوب اور قلعہ سیف اللہ تک کوئٹہ سیکریٹریٹ سے چلانے کا موجودہ انتظامی طریقہ مؤثر نہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں بڑھتی آبادی اور مرکزیت کے باعث نظام اوورلوڈڈ ہوچکا ہے، اس لیے انتظامی طور پر نظام میں توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق حل یا تو 160 اختیارات والی ضلعی حکومتیں ہیں یا ملک میں 12 سے 15 صوبے بنائے جائیں۔

احسن اقبال نے مزید کہا کہ 1947 کے بعد پاکستان کے ہمسایہ ملک میں درجنوں نئے صوبے بن چکے ہیں۔ سندھ اسمبلی کی قرارداد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ سندھ اسمبلی کا استحقاق ہے کہ وہ اپنی قرارداد منظور کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو اچھی تعلیم، صحت، صفائی اور صاف پانی کی ضرورت ہے، یہ مسائل کسی بھی سیاسی نعرے یا سیاسی جماعت کے مفاد سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔