نیویارک: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں برطانوی برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد عبور کر گیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر تقریباً 100.69 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو گزشتہ دو ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل بھی اضافے کے بعد 91.65 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گیا۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث سامنے آیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو گزشتہ دو ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جمعرات کے روز آبنائے ہرمز سے صرف ایک آئل ٹینکر گزر سکا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ "نیو جائنٹ" نامی جہاز تقریباً 20 لاکھ بیرل عراقی خام تیل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرا اور چین کی بندرگاہ ریژاؤ کی جانب روانہ ہوا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی منڈی مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں۔