ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل کسی ایک ملک پر حملے کی صورت میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی باہمی مشاورت سے لائحہ عمل طے کرکے اس پر عمل کریں گے۔

عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دفاعی وعدوں پر عمل درآمد اور فوجی کارروائیوں سے متعلق تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتیں۔ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد اجتماعی دفاع، خطے میں استحکام اور امن کو مضبوط بنانا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کسی ملک کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور اپنی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد رکھتا ہے۔ انہوں نے افغانستان سے متعلق کہا کہ پاکستان کا مطالبہ واضح ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔

انہوں نے بھارت کی بڑھتی فوجی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں اور اس کی دفاعی صلاحیتیں ملکی دفاع کے لیے ہیں۔

سورس: جیو نیوز