اسلام آباد: قیدیوں کو نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت فراہم کرنے سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت نے سپریم کورٹ میں زیر سماعت بانی پی ٹی آئی عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی کے کیس کا ریکارڈ طلب کرلیا۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے تین قیدیوں کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی تشریح سے متعلق سوال پر وفاقی آئینی عدالت ملک کی کسی بھی عدالت سے ریکارڈ منگوا سکتی ہے۔

جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ آئین و قانون کا اطلاق امیر اور غریب پر یکساں ہونا چاہیے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ اصل سوال اختیارِ سماعت کا ہے اور یہ طے ہونا ہے کہ آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات اب کون سن سکتا ہے۔

عدالت نے سپریم کورٹ کے ساتھ دیگر ہائیکورٹس میں زیرالتوا اسی نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ اگر کسی ہائیکورٹ میں ایسا کوئی کیس زیر سماعت ہے تو اس کا ریکارڈ بھی بھجوایا جائے۔