اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کرنے اور بیرونی فنڈنگ کے ذرائع متنوع بنانے کے لیے نئے مالیاتی اقدامات پر کام شروع کردیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان روپے میں مالیت رکھنے والا ایسا بانڈ جاری کرنے کا خواہاں ہے جس کی ادائیگی ڈالر میں ہوگی، جبکہ موجودہ یوروبانڈ قرض کے ایک حصے کو ڈیجیٹل ٹوکن میں تبدیل کرنے کے امکانات پر بھی کام جاری ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے نئے راستے تلاش کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو روپے میں مالیت اور ڈالر میں سیٹل ہونے والے بانڈ پر کام کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ حکومت موجودہ یوروبانڈ قرض کے کچھ حصے کو ٹوکنائز کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ اس سے روایتی مالیاتی اثاثوں کے اجرا، لین دین اور سیٹلمنٹ میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق رواں مالی سال معاشی شرح نمو 4 فیصد سے زائد رکھنے کا ہدف ہے، جبکہ مالی سال 2027 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر تک بڑھانے کی کوشش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تبدیلی پاکستانی معیشت، مہنگائی اور شرح نمو پر اثرانداز ہوسکتی ہے، جس کا حکومت مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو آگے بڑھانے کا بھی عندیہ دیا اور کہا کہ آنے والے مہینوں میں آئیسکو، فیسکو اور گیپکو کی نجکاری کے منصوبے پر پیش رفت کی جائے گی۔




