نئی دہلی، 28 اگست 2026: بھارتی خلائی پروگرام کو بڑھتے ہوئے اخراجات اور راکٹ تجربات میں ناکامیوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، جس کے بعد بھارتی خلائی ادارے اسرو (ISRO) کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق یورپی ماہرین کی ایک تحقیق میں بھارتی خلائی پروگرام کے اخراجات اور کارکردگی سے متعلق اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 2025 میں بھارت کی خلائی لانچنگ لاگت 13 ہزار 300 ڈالر فی کلوگرام تک پہنچ گئی، جو عالمی اوسط 3 ہزار 868 ڈالر فی کلوگرام سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرو کو حالیہ برسوں میں راکٹ تجربات میں ناکامیوں کے ساتھ ساتھ مختلف ادارہ جاتی مشکلات کا بھی سامنا رہا ہے، جبکہ ان چیلنجز کے دوران 100 سے زائد سائنسدانوں کے اسرو چھوڑنے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسرو کی 57 سالہ تاریخ میں بھارت مجموعی طور پر 105 راکٹ لانچ کر چکا ہے۔ بلند لانچنگ لاگت اور کارکردگی سے متعلق مسائل نے بھارتی خلائی پروگرام کے اخراجات، افادیت اور مستقبل کی سمت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کردیے ہیں۔




