واشنگٹن: امریکا نے شام کو ریاستی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاستوں کی فہرست سے خارج کر دیا ہے، جس کے بعد شام میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ دور ہوگئی۔
امریکی اقدام 47 برس بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ شام کی نئی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی دہشت گردی سے خود کو الگ کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے اعتراف میں کیا گیا۔
شامی صدر احمد الشرع نے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ اس اقدام سے شامی عوام کے لیے خوش حالی کی جانب راستہ کھلے گا۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق شام کو فہرست سے نکالنے کے فیصلے سے ملک میں مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوگی۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق صدر ٹرمپ نے 8 جولائی کو کانگریس کو شام کو فہرست سے نکالنے کے ارادے سے آگاہ کیا تھا، جس کے بعد 45 روزہ جائزے کی مدت مکمل ہونے پر فیصلہ مؤثر ہوگیا۔
شام کو 1979 میں سابق صدر حافظ الاسد کی حکومت کی جانب سے عسکریت پسند گروہوں کی حمایت کے الزامات کے باعث اس فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ بشار الاسد کے دور حکومت میں بھی یہ حیثیت برقرار رہی۔
دسمبر 2024 میں احمد الشرع کی قیادت میں باغیوں نے بشار الاسد حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ تاہم کیوبا، ایران اور شمالی کوریا اب بھی امریکی فہرست میں شامل ہیں۔




