کراچی: پِتّے کی پتھری نظامِ ہضم سے متعلق ایک عام بیماری ہے، جس میں بہت سے افراد کو طویل عرصے تک کسی علامت کا سامنا نہیں ہوتا، تاہم بعض صورتوں میں یہ شدید درد، انفیکشن، یرقان اور سوزش جیسی پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

پِتّہ جگر کے نیچے موجود ایک چھوٹا، تھیلی نما عضو ہے، جس کا بنیادی کام جگر میں بننے والے صفرا کو عارضی طور پر ذخیرہ کرنا ہے۔ صفرا میں بنیادی طور پر کولیسٹرول، بائل سالٹس اور بلی روبن شامل ہوتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق جب صفرا میں موجود ان اجزا کا توازن بگڑتا ہے تو چھوٹے کرسٹل بننا شروع ہوجاتے ہیں، جو وقت کے ساتھ بڑھ کر پتھری کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔

پِتّے میں پتھری بننے کی اہم وجوہات میں صفرا میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہونا، پِتّے کا مکمل طور پر خالی نہ ہونا، بلی روبن کی زیادہ پیداوار اور پِتّے میں انفیکشن یا سوزش شامل ہیں۔

بعض مریضوں میں پتھری کی موجودگی کے باوجود کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جبکہ کچھ افراد میں خاص طور پر پیٹ کے دائیں جانب اچانک اور شدید درد کی شکایت سامنے آتی ہے۔

ماہرین کے مطابق بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے پِتّے کی پتھری سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔