نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات اور کئی سال کی مشاورت کا نتیجہ ہے۔
اسحاق ڈار کے مطابق معاہدے کا مقصد امن و سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ مکہ معاہدہ کسی موجودہ دوطرفہ یا کثیرالجہتی معاہدے کو منسوخ یا تبدیل نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت دفاع کے حق سے ہم آہنگ ہے۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔ اس کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کی کوششوں کو مضبوط بنانا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بنیادی اصولوں کی پاسداری کرنے والے علاقائی ممالک کے لیے معاہدے کے دروازے کھلے ہیں، جبکہ پاکستان خطے کے برادر ممالک کے ساتھ دیرپا امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔




