امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں دیے گئے طریقہ کار کے مطابق نئے انتظامی یونٹس بنانا غلط نہیں۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی سے ہزارہ صوبہ بنانے کی قراردادیں منظور ہوچکی ہیں، تاہم ان پر تاحال عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کی آواز اس لیے اٹھتی ہے کیونکہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہوتے۔ بیوروکریسی اور صوبائی حکومتوں کے پاس اختیارات کا ارتکاز مسائل کی بڑی وجہ ہے۔

کراچی کے حوالے سے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہاں صوبے کے قیام اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینے کے مطالبات اسی لیے سامنے آتے ہیں کہ شہریوں کو بنیادی حقوق اور روزگار کے مواقع نہیں مل رہے۔

ٹیگ لائن: