کراچی (8 اگست 2026): سابق گورنر سندھ اور سینئر سیاست دان محمد زبیر نے ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز کی حمایت کردی۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے کہا کہ ملک کا موجودہ نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور وہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام کی ناکامی سے متعلق مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
محمد زبیر کا کہنا تھا کہ وہ کافی عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ موجودہ نظام مؤثر انداز میں نہیں چل پا رہا، تاہم اب حکومت کے ایک سینئر اور طاقتور شخص نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے محسن نقوی کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کی تجویز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم موضوع ہے جس پر پورے ملک میں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔
کراچی اور گوادر کو وفاق کے ماتحت کرنے کی تجویز پر محمد زبیر نے سوال اٹھایا کہ یہ فیصلہ کہاں طے ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی کو صوبائی حکومت سے زیادہ بہتر انداز میں چلا سکتی ہے؟ ان کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں دونوں کی کارکردگی پر سوالات موجود ہیں۔
سابق گورنر سندھ نے کہا کہ جو سیاسی جماعتیں طویل عرصے تک اقتدار میں رہیں، انہیں بتانا ہوگا کہ انہوں نے عوام کے لیے کیا کارکردگی دکھائی۔ ان کا کہنا تھا کہ دو خاندانوں کی حکمرانی کے تسلط کے باعث ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
محمد زبیر نے مزید دعویٰ کیا کہ محسن نقوی کے بیان کے بعد مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی ایک اہم بیٹھک ہوئی، جس میں شریف برادران، مریم نواز اور اسحاق ڈار نے ملک کی صورتحال پر مشاورت کی۔




