کراچی: سندھ حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد 8 اگست سے ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔

گڈز ٹرانسپورٹرز نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یومیہ ردوبدل سمیت دیگر مطالبات کے حق میں ملک گیر ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ ہڑتال روکنے کے لیے سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کیے، تاہم دونوں فریق کسی قابلِ قبول حل پر متفق نہ ہو سکے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران حکومت کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا گیا، مگر حکومتی رویہ سنجیدہ نہیں تھا، جس کے باعث مذاکرات ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 8 اگست سے غیر معینہ مدت کے لیے ملک گیر ہڑتال شروع کی جائے گی اور حکومت کو ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے۔

دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی کے بعد وفاقی حکومت بھی متحرک ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکام نے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی قیادت سے رابطہ کر کے مذاکرات کی دعوت دی ہے۔

صدر اتحاد ملک شہزاد اعوان نے تصدیق کی ہے کہ آج شام وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کے ساتھ اہم مذاکرات ہوں گے، جن میں ہڑتال سے قبل معاملات طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔