کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ پولیس کے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہداء کی قربانیاں صرف یادگار نہیں بلکہ ہمارے لیے عزم، ذمہ داری اور مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کے شہداء نے عوام کے جان و مال کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور ملک و قوم کی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جنہیں ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت یا کوئی ادارہ شہداء کے اہلِ خانہ کی کمی پوری نہیں کرسکتا، تاہم حکومت سندھ ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ پولیس کے افسران اور جوان دہشت گردی، منظم جرائم، ٹارگٹ کلنگ اور سماج دشمن عناصر کے خلاف بہادری سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جبکہ مؤثر حکمت عملی کے باعث کراچی میں اسٹریٹ کرائم سمیت صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ حکومت سندھ پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، ڈرون سسٹم، تلاش ایپ، سیف سٹی منصوبے، ایس فور، ٹریکس، ہائی وے پیٹرولنگ اور کچے کے علاقوں میں آپریشنز کو مزید مؤثر بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کے ورثاء کے لیے 23.5 ملین سے 70 ملین روپے تک مالی معاونت، شہید کی 60 سالہ مدتِ ملازمت تک ماہانہ تنخواہ، فوری 3 لاکھ روپے تجہیز و تکفین فنڈ اور دو سرکاری ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید بتایا کہ پولیس افسران، اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے ہیلتھ انشورنس پالیسی بھی متعارف کرائی گئی ہے، جبکہ یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک 39 ہزار 821 پولیس افسران، اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ نے ہیلتھ کارڈ سے استفادہ کیا۔
اپنے خطاب کے اختتام پر مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پولیس کی فلاح، تربیت، جدید سہولیات اور پیشہ ورانہ استعداد میں اضافے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی اور شہداء کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک پرامن، محفوظ اور قانون کی حکمرانی والا سندھ تشکیل دیا جائے گا۔




