کراچی: گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ کراچی جیسے بڑے شہر میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ زیادہ آبادی والے شہروں میں جرائم کی شرح بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔
کراچی میں نوجوان میر رضا کی ہلاکت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق میر رضا نے خودکشی نہیں کی، بلکہ انہیں چار گولیاں لگی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور حتمی حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی نوجوان کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔ ان کے بقول 2010 کے مقابلے میں کراچی میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم شہر میں سکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت برقرار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ کراچی اور لاہور کا موازنہ مثبت انداز میں ہونا چاہیے اور تنقید کے بجائے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تقسیم کا لفظ انتہائی نامناسب ہے اور وہ ملک کی تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔
گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ وہ عوامی ووٹوں سے نہیں بلکہ آئین کے تحت گورنر مقرر ہوئے ہیں اور آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 7 لاکھ لیپ ٹاپ طلبہ میں تقسیم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ سال لیپ ٹاپ اسکیم کو مزید وسعت دینے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔




