کراچی: ایم کیو ایم کے بہادر آباد مرکز پر ہونے والے مسلح تصادم میں ایک کارکن گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جس کے بعد چیئرمین ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا مؤقف بھی سامنے آ گیا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ یہ واقعہ کارکنوں کے درمیان غلط فہمی اور تلخ کلامی کے باعث پیش آیا۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت نے واقعے کا جائزہ لیا ہے اور اب صورتِ حال معمول پر آ رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال گروپ کے کارکنوں کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے بعد بہادر آباد مرکز کو بند کر دیا گیا۔ تصادم کے دوران عامر نامی ایک کارکن، جو لیاقت آباد کا رہائشی بتایا جاتا ہے، گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔
ذرائع کے مطابق بہادر آباد مرکز میں خالد مقبول گروپ جشنِ آزادی کی تقریبات کے حوالے سے اجلاس کر رہا تھا کہ اسی دوران انیس قائم خانی کی قیادت میں مصطفیٰ کمال گروپ بھی الگ اجلاس کے لیے مرکز پہنچ گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے روکنے کی کوشش پر تلخ کلامی بڑھ گئی، جس کے بعد فائرنگ اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ دھکم پیل کے دوران سینئر رہنما امین الحق کے کپڑے بھی پھٹ گئے۔
رابطہ کمیٹی کے کمرے میں ہونے والے ہنگامے کے دوران ایک دوسرے پر کرسیاں پھینکی گئیں، جبکہ ڈی وی آر نگرانی نظام کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ کچھ کارکن ڈی وی آر سسٹم اپنے ساتھ بھی لے گئے۔
واقعے کے بعد بہادر آباد مرکز کو تالہ لگا دیا گیا، جبکہ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ایم پی اے اعجاز الحق نے الزام عائد کیا کہ انیس قائم خانی نے انہیں کمرے کے اندر تھپڑ مارا، جبکہ ذاکر حسین کو ایم پی اے فرحان انصاری اور دیگر افراد نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعض افراد کی جانب سے مبینہ طور پر یہ نعرہ بھی لگایا گیا کہ "یہ لندن والے ہیں، انہیں مارو۔"
دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ "جو سندھ کو تقسیم کرنے نکلے تھے، وہ آج اپنے ہی گھر کو سنبھالنے میں ناکام نظر آ رہے ہیں اور خود دھڑوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔"




