کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ناقابلِ تقسیم صرف پاکستان ہے، صوبوں کی تقسیم کو غداری قرار دینا خود ایک بڑی غداری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کے موجودہ مسائل کا حل نئے انتظامی یونٹس اور بااختیار مقامی حکومتوں کے قیام میں ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان کا علاج اب وقتی اقدامات سے نہیں ہوگا بلکہ بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد میں منعقدہ تاجر برادری کے اجلاس میں بھی ایم کیو ایم کے اس دیرینہ مؤقف کی حمایت کی گئی کہ ملک بھر میں نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان خود نئے صوبوں کے قیام کا طریقۂ کار فراہم کرتا ہے، تاہم موجودہ آئینی طریقہ کار عملی طور پر مؤثر نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم قومی اسمبلی میں اس حوالے سے آئینی ترمیم بھی پیش کر چکی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کے موجودہ صوبے لسانی بنیادوں پر قائم ہیں، جبکہ ایم کیو ایم آبادی کے تناسب سے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی حامی ہے تاکہ عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اس موقع پر ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی کی طویل جدوجہد اب نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہے اور نئے انتظامی یونٹس کے ساتھ ساتھ بااختیار مقامی حکومتوں کا نظام بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اہم قومی معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جائے۔ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کا انتظام صرف چار صوبوں کے ذریعے مؤثر انداز میں نہیں چلایا جا سکتا، اس لیے انتظامی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔




