مظفرآباد: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی محاذ مزید گرم ہوگیا ہے۔ وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر امیر مقام نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ "اگر ہم گئے تو سب اکٹھے جائیں گے۔"

کھاوڑا میں مسلم لیگ (ن) کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ میرپور سمیت مختلف علاقوں کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ پیپلز پارٹی کو الزامات لگانے کے بجائے یہ جائزہ لینا چاہیے کہ عوام نے اسے کیوں مسترد کیا۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت اور انتظامیہ پہلے ہی پیپلز پارٹی کے زیرِ اثر ہے، اس لیے انتخابات پر بے بنیاد الزامات لگانے کے بجائے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی خود بھی موجودہ نظام اور اہم آئینی عہدوں کا حصہ ہے، اس لیے مسلسل دھمکی آمیز بیانات مناسب نہیں۔

امیر مقام کا یہ ردعمل بلاول بھٹو زرداری کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے مظفرآباد کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات "چوری" کیے گئے تو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی بلاول بھٹو کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کو شفاف انتخابات قرار دیا جاتا ہے، لیکن آزاد کشمیر میں شکست کے بعد دھاندلی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کریں اور جمہوری عمل کا احترام کریں۔

آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج کے بعد حکومتی اور اپوزیشن قیادت کے درمیان لفظی جنگ میں تیزی آ گئی ہے، جس سے ملکی سیاست میں کشیدگی مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔