لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات میں عوام نے ترقی، کارکردگی اور جدت کو ووٹ دیا، جسے سیاسی مخالفین کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے طنزیہ انداز میں کہا، "کل بلاول بھٹو زرداری نے کسی کا گلہ پکڑا، پھر ساری رات پیر پکڑ کر بیٹھے رہے۔"

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گزشتہ 18 ماہ کے دوران عوامی فلاح کے متعدد منصوبے مکمل کیے، جبکہ پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی 18 سالہ حکمرانی کی کوئی نمایاں کارکردگی پیش نہیں کر سکتی۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے عوام نے ووٹ کے ذریعے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کا اظہار کیا اور انتخابی نتائج کو قبول کرنا ہی جمہوری سیاست کا تقاضا ہے۔ ان کے مطابق، ایک سیاسی جماعت انتخابی شکست کے بعد ذہنی دباؤ اور مایوسی کا شکار نظر آ رہی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کے بعض شکست خوردہ امیدواروں کو کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز دیے گئے، جبکہ بلاول بھٹو اپنی تقاریر میں دوسروں کی نقل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے پنجاب اور سندھ کی کارکردگی کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں گرین بسیں، ایئر ایمبولینس، جدید واسا مشینری، تعلیمی وظائف، لیپ ٹاپ اسکیم اور جنوبی پنجاب کے لیے متعدد ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جبکہ سندھ میں عوام بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام آج بھی بہتر ٹرانسپورٹ اور بنیادی شہری سہولیات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے بلاول بھٹو کو پنجاب کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود آ کر ترقیاتی منصوبے دیکھیں۔

آخر میں انہوں نے کہا، "مریم کا پنجاب اور بلاول کا سندھ دیکھ لیں، جو اپنے گھر کی سڑکیں نہ بنا سکے، وہ کشمیر کی سڑکیں کیا بنائیں گے۔"