اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے حالیہ بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انہوں نے "ریاست" کا ذکر کیا تو اس سے مراد اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی بلکہ ریاستی اداروں اور قومی مفاد کی بات کی گئی تھی۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام "الیونتھ آور" میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ قومی مفاد سے متعلق ہر فیصلے میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر قومی مفاد پر تمام سیاسی قوتوں کو ایک مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے ایک کارکن کو قتل کیا گیا اور ایک نشست "چوری" کی گئی۔ بلاول کے مطابق، ان کے امیدوار چوہدری یاسین کے حلقے کے 30 پولنگ اسٹیشنز پر قبضہ کیا گیا، پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال کر ووٹنگ کے عمل کو متاثر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے اپنی نشستیں واپس حاصل کرے گی۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے بعد میرپور میں بھی نشستیں چھیننے کی کوشش کی گئی، جسے وہ ہرگز برداشت نہیں کریں گے، اور جن امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہوئی انہیں انصاف دلانے کے لیے ہر قانونی فورم سے رجوع کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حل کے لیے "ٹروتھ اینڈ ری کنسیلیشن کمیشن" قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، جبکہ احتجاج کرنے والوں اور حکومت دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی، تاہم اس تجویز پر کوئی مثبت جواب نہیں ملا۔
انہوں نے وفاقی وزرا کے الزامات کو بھی "بڑے اور سنجیدہ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے دعوے حقائق پر مبنی نہیں تو اس سے نہ صرف کشمیر کاز بلکہ آزاد جموں و کشمیر کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔




