سکھر: حکومتِ سندھ کی جانب سے 30 جون 2026 کو محکمہ صحت سے متعلق جاری کیے گئے حکومتی آرڈر کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں ایک آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست سینئر شہری کی جانب سے سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل ایڈووکیٹ شبیر شر کے توسط سے دائر کی گئی۔ ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری ہیلتھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز سندھ اور چیف ایگزیکٹو آفیسر پی پی ایچ آئی سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 4 اگست 2026 تک جواب طلب کر لیا۔

درخواست گزار ابوذر غفاری نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ حکومتِ سندھ کا 30 جون کا آرڈر آئین میں شہریوں کو حاصل بنیادی حقوق سے متصادم ہے۔ درخواست کے مطابق صحت جیسے بنیادی عوامی شعبے کو ایک نجی این جی او کے سپرد کرنے سے عوام کو بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی، شفافیت، احتساب اور ریاستی ذمہ داریوں سے متعلق سنگین آئینی اور قانونی سوالات جنم لیتے ہیں۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ حکومتِ سندھ کے مذکورہ آرڈر کا آئین اور قانون کی روشنی میں جائزہ لیا جائے، اور اگر یہ آئین سے متصادم قرار پائے تو اسے کالعدم قرار دیا جائے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقِ صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

عدالت میں اس اہم آئینی مقدمے کی آئندہ سماعت اور متعلقہ سرکاری حکام کے جوابات کے بعد کیس کی مزید قانونی سمت کا تعین کیا جائے گا۔