کراچی: رہنما ایم کیو ایم پاکستان اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کے بعد اب اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے سڑکوں پر بھی جدوجہد کی جائے گی۔

کراچی میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے سندھ حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کراچی کو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہونے کے باوجود اس کا جائز حق نہیں دیا جا رہا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ "ہم نے پارلیمنٹ کی سیاست کرلی، آئینی ترمیم بھی پیش کردی، لیکن جب کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو اب آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں گے۔" ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے لیے ہر آئینی اور قانونی راستہ اختیار کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ لاہور ترقی میں کراچی سے کئی دہائیاں آگے نکل چکا ہے جبکہ سندھ میں بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔ ان کے مطابق دنیا جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی ہے لیکن یہاں بچے کھلے گٹروں میں گر کر جان سے ہاتھ دھو رہے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ دیگر شہروں میں ایئر ایمبولینس سروس متعارف کرائی جا رہی ہے جبکہ سندھ میں سائیکل ایمبولینس جیسے منصوبے پیش کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوبے میں کتے کے کاٹنے کے واقعات سے سب سے زیادہ بچے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ 18 برس گزرنے کے باوجود نظام میں کوئی بنیادی بہتری نہیں آئی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم اپنی اصل روح کے مطابق نافذ نہیں ہو سکی اور انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت ناگزیر ہو چکی ہے۔

انہوں نے سندھ میں تعلیمی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ کئی سرکاری اسکولوں میں بچیوں کے لیے واش روم جیسی بنیادی سہولت بھی موجود نہیں۔

کراچی کے مالی کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر پاکستان کی مجموعی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد اور سندھ کی آمدنی کا 95 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتا ہے، مگر وسائل کی تقسیم میں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 18 برس میں کراچی کو مجموعی وسائل کا صرف 3 فیصد ملا، جبکہ 22 ہزار ارب روپے میں سے شہر کے حصے میں صرف 680 ارب روپے آئے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان عوام کے سامنے تمام اعداد و شمار اور دلائل رکھے گی اور کراچی کے حقوق کے لیے بھرپور آئینی جدوجہد جاری رکھے گی۔