کراچی: (ابوذر غفاری)مستند ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے عوام کو سفری سہولتوں میں ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایئرکنڈیشنڈ (AC) کوچز کے لیے فی بس 2 لاکھ روپے سبسڈی دینے کی اسکیم میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض افسران نے مبینہ طور پر ٹرانسپورٹرز سے جعلی فائلیں اور دستاویزات حاصل کرکے سرکاری سبسڈی کی مد میں کروڑوں روپے غیرقانونی طور پر وصول کیے۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری سطح پر تاحال تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اگر اس معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تو کئی اہم شخصیات کے نام سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ قومی خزانے کو پہنچنے والے مبینہ نقصان کی حقیقت بھی واضح ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ سبسڈی اسکیم کا آغاز عوام کو کم کرایوں پر بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے اور ٹرانسپورٹرز کو مالی معاونت دینے کے لیے کیا تھا۔ تاہم اگر سبسڈی جعلی دستاویزات کی بنیاد پر حاصل کی گئی ہے تو اس سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا بلکہ عوام بھی اپنے حق کے ریلیف سے محروم رہے۔

دی پوسٹ ڈیجیٹل نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین الزامات کی شفاف، غیرجانبدار اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ اگر یہ بے بنیاد ثابت ہوں تو اس حوالے سے بھی عوام کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے۔