اسلام آباد: جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سینئر سیاستدان امیر العظیم طویل عرصے تک کینسر کے موذی مرض سے نبرد آزما رہنے کے بعد انتقال کر گئے۔ ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق وہ گزشتہ کچھ عرصے سے شدید علیل تھے اور لاہور کے ایک مقامی اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ملک بھر کے سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سمیت مختلف سیاسی رہنماؤں نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

امیر العظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے اور اپنے سیاسی و تنظیمی سفر کا آغاز زمانۂ طالب علمی سے کیا۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ رہے، جبکہ پنجاب یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے منتخب صدر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔ اپنی مؤثر تنظیمی صلاحیتوں اور خطابت کے باعث وہ جلد ہی جماعت اسلامی کی صفِ اول کی قیادت میں شامل ہو گئے۔

طالب علمی کے بعد انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ وہ طویل عرصے تک مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہے، اس کے بعد جماعت اسلامی لاہور کے سیکرٹری جنرل اور امیر، پھر امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب کے عہدوں پر خدمات انجام دیں۔

سال 2019ء میں سابق امیر جماعت سراج الحق نے انہیں جماعت اسلامی پاکستان کا مرکزی سیکرٹری جنرل مقرر کیا، جبکہ 2024ء میں موجودہ امیر حافظ نعیم الرحمن نے بھی ان پر اعتماد برقرار رکھتے ہوئے انہیں اسی منصب پر برقرار رکھا۔

حافظ نعیم الرحمن نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ امیر العظیم نے شدید علالت کے باوجود آخری وقت تک جماعت کی ذمہ داریاں صبر، استقامت اور اخلاص کے ساتھ نبھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وفات سے جماعت اسلامی ایک مخلص، باوقار اور مدبر رہنما سے محروم ہو گئی ہے، جس کا خلا آسانی سے پُر نہیں ہو سکے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں مرحوم کی سیاسی اور تحریکی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت کی دعا کی۔ جماعت اسلامی کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔