نیویارک: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے امریکی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی گرفتاری کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ وارنٹ پر عمل درآمد یقینی بنائے۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے ویڈیو بیان میں ظہران ممدانی نے کہا کہ بطور میئر نیویارک سٹی انتظامیہ کے پاس نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا قانونی اختیار موجود نہیں، تاہم امریکی وفاقی حکومت کے پاس یہ اختیار موجود ہے اور اسے آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے قانونی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ نیویارک سٹی کی انتظامیہ نے موجودہ قوانین کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کے بعد یہ واضح ہوا کہ شہر کی سطح پر نیتن یاہو کی گرفتاری ممکن نہیں، اس لیے یہ معاملہ وفاقی حکومت کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

ظہران ممدانی نے کہا کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ گرفتاری وارنٹ کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے مطابق بنیامین نیتن یاہو فلسطینیوں کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور نسل کشی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ "نیتن یاہو فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ذمہ دار ہیں، ان پر ہزاروں جانوں کے ضیاع کا الزام ہے، اس لیے انہیں نیویارک میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔"

میئر ظہران ممدانی کے اس بیان نے امریکا اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ ان کا مؤقف سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔