کراچی: پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سرکاری اور نجی اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے ہندو مذہبی کتب متعارف کرا دی گئی ہیں۔ اس اقدام کے تحت جماعت سوم سے پنجم تک کے ہندو طلبہ میں مذہبی نصابی کتب تقسیم کی گئیں۔
این جے وی گورنمنٹ سیکنڈری ہائی اسکول کراچی میں منعقدہ تقریب میں اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی، رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہاسیجا اور معاذ محبوب نے ہندو طلبہ میں مذہبی کتب تقسیم کیں۔
اس موقع پر علی خورشیدی نے ہندو مذہبی کتب کی اشاعت اور تدریس کے آغاز کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے طلبہ اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد پہلی مرتبہ سرکاری اسکولوں میں ہندو طلبہ کے لیے باقاعدہ مذہبی تعلیم کا آغاز ایک اہم پیش رفت ہے۔
تقریب کے دوران این جے وی اسکول کے پرنسپل نے مہمانوں کو اسکول کی مختلف تعلیمی اور انتظامی سہولیات کا بھی دورہ کرایا۔
رکن سندھ اسمبلی مہیش کمار ہاسیجا نے کہا کہ ہندو مذہبی کتب کی فراہمی اقلیتی طلبہ کے تعلیمی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک تاریخی قدم ہے، جس سے آئینِ پاکستان میں دیے گئے مساوی حقوق کو عملی شکل ملے گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 22، 25 اور 36 کے تقاضوں پر عملدرآمد کرتے ہوئے یہ اہم اقدام اٹھایا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد ہی مسیحی طلبہ کے لیے بھی مسیحی مذہبی کتب نصاب کا حصہ بنائی جائیں گی تاکہ تمام اقلیتوں کو اپنی مذہبی تعلیم حاصل کرنے کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔




