پنجاب بار کونسل نے بعض لا کالجز اور شاہ عبداللطیف یونیورسٹی سے مبینہ طور پر جعلی قانون (ایل ایل بی) کی ڈگریاں حاصل کرنے والے وکلا کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔ بار کونسل نے ایسے وکلا، متعلقہ لا کالجز اور جامعات کی فہرست بھی جاری کر دی ہے۔

اس اقدام کو قانونی شعبے میں شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب سندھ بار کونسل نے تاحال اس معاملے پر کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے، جس کے باعث قانونی حلقوں میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

قانونی برادری کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب بار کونسل جعلی ڈگری رکھنے والے وکلا کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے تو سندھ بار کونسل بھی اس معاملے کی تحقیقات کرے اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو متعلقہ وکلا کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

واضح رہے کہ سندھ بار کونسل کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی سرکاری اعلامیہ یا کارروائی سامنے نہیں آئی، جس کے باعث یہ سوال برقرار ہے کہ سندھ میں ایسے وکلا کے خلاف کارروائی کب عمل میں لائی جائے گی