کراچی: پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے یومیہ تعین سے متعلق حکومتی فیصلے کو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز نے مسترد کرتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ پٹرول پمپ مالکان نے فیصلہ واپس نہ لینے کی صورت میں احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی دے دی ہے۔
حکومت نے مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت قیمتوں کا تعین گزشتہ سات روز کی اوسط عالمی قیمت کو بنیاد بنا کر کیا جائے گا۔
اس فیصلے پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) کا کہنا ہے کہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مؤثر مشاورت نہیں کی گئی اور بیشتر کمپنیاں فوری طور پر یومیہ قیمتوں کے نظام پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کمپنیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نئی پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے، آزمائشی مدت دی جائے اور واضح رہنما اصول جاری کیے جائیں۔
دوسری جانب آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے مجوزہ پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو آئندہ ہفتے احتجاج اور ہڑتال کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈیلرز کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ سندھ کے صدر امیر خان نے بھی یومیہ قیمتوں کے نظام کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کام بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔




