خیرپور میرس مل کالونی کے رہائشیوں نے واپڈا کے لائن مین شکیل دھاریجو اور ان کے مبینہ معاون ریاست علی عرف کالو کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ کالونی میں بجلی کے بیشتر معاملات قانونی طریقہ کار کے بجائے مبینہ طور پر ذاتی مفادات کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔

مقامی افراد کے مطابق شکیل دھاریجو واپڈا کے لائن مین ہیں، تاہم کالونی میں ان کی موجودگی بہت کم نظر آتی ہے۔ شہریوں کا دعویٰ ہے کہ روزمرہ کے تمام تکنیکی کام ان کے مبینہ معاون ریاست علی عرف کالو انجام دیتے ہیں، حالانکہ وہ واپڈا کے باقاعدہ ملازم نہیں ہیں۔

رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر ماہانہ رقم کے عوض گھروں میں غیرقانونی ڈائریکٹ بجلی کے کنکشن فراہم کیے جاتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اگر کسی ٹرانسفارمر کا لنک جل جائے یا بجلی کی لائن میں خرابی پیدا ہو تو واپڈا کے ذمہ دار اہلکار خود کام کرنے کے بجائے کالو کو بھیج دیتے ہیں، جو مختلف تکنیکی کام انجام دیتا ہے۔

شہری نوجوان وکیل اور سماجی کارکن الطاف کا مزید کہنا ہے کہ شکیل دھاریجو عام حالات میں کالونی میں کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کی آمد زیادہ تر دو مواقع پر ہوتی ہے: ایک، جب مبینہ طور پر ماہانہ وصولی کی جاتی ہے، اور دوسرا، جب واپڈا کی جانب سے غیرقانونی بجلی کے کنکشنز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی یا آپریشن کیا جاتا ہے۔

اہلِ علاقہ کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام ان الزامات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ اگر کسی بھی سرکاری ملازم یا فرد کے خلاف غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شواہد ملیں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ بجلی چوری کی روک تھام ہو اور صارفین کو میرٹ پر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

نوٹ: اس رپورٹ میں بیان کیے گئے الزامات مقامی شہریوں کے دعوؤں پر مبنی ہیں۔ متعلقہ افراد یا اداروں کا مؤقف شامل نہیں ہے۔