مظفرآباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام ہی کریں گے، تاہم بندوق، تشدد یا دھرنوں کے زور پر آئین میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ حالات کشمیر کاز کے لیے نقصان دہ ہیں اور تمام فریقوں کو معاملہ فہمی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
مظفرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے عہدیداروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والا بحران وفاقی وزراء کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کا نتیجہ ہے، اس لیے وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بحران کو پرامن طریقے سے ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھا کوئی بھی شخص یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون کشمیری ہے اور کون نہیں۔ کشمیری عوام کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنا ناقابل قبول ہے اور اس سے پوری قوم کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ احتجاج اور دھرنے ختم کریں۔ انہوں نے کہا کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے، تاہم تشدد، ہنگامہ آرائی اور قانون ہاتھ میں لینے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہرگز نہیں چاہتے کہ کشمیر میں بھی ماضی کی طرح تشدد پر مبنی سیاست فروغ پائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پاکستان، آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور احتجاج کرنے والے تمام فریقوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھرنوں اور بندوق کے زور پر آئینی ترامیم نہیں کی جا سکتیں۔
بلاول بھٹو نے اپنے خطاب میں کہا کہ افواجِ پاکستان ملک کی ریڈ لائن ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی مہم یا بیان قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کو کوئی بھی سرنگوں نہیں کر سکتا اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی اداروں کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔




