حیدرآباد (رپورٹ: تیمور بلوچ): سندھ پولیس نے حیدرآباد میں تعینات لیڈی جونیئر کلرک ماریہ ساریو کو محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملازمت سے برطرف کر دیا۔

محکمہ پولیس کے مطابق ماریہ ساریو پہلے ہی معطل کی جا چکی تھیں۔ ان کے خلاف محکمانہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد برطرفی کا حکم جاری کیا گیا۔ انکوائری کے دوران انہیں شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے، تاہم ان کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیا گیا۔

حکام کے مطابق کارروائی ڈی آئی جی میرپورخاص رینج کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں عمل میں لائی گئی، جس میں ماریہ ساریو کو سنگین بدانتظامی کی مرتکب قرار دیا گیا۔

محکمانہ حکم نامے کے مطابق ماریہ ساریو کو سندھ سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز، 1973 کے تحت ملازمت سے برطرف کیا گیا، جبکہ برطرفی کا حکم آئی جی سندھ کی منظوری سے جاری کیا گیا۔

دستاویزات کے مطابق یہ کارروائی ماریہ ساریو کے خلاف درج مقدمے اور محکمانہ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ برطرف ملازمہ کو فیصلے کے خلاف 30 روز کے اندر اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔