کراچی/میرپور ساکرو (رپورٹ: عبدالغفار بھٹو): ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل میرپور ساکرو کے رہائشیوں نے مقامی تھانے کے ایس ایچ او فدا خاصخیلی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دوبارہ منشیات فروشی پر مجبور کیا جا رہا ہے، ماہانہ بھتہ طلب کیا جاتا ہے اور انکار کی صورت میں جھوٹے مقدمات اور پولیس مقابلے میں مارنے ("ہاف فرائی") کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صابر کاتیار، دوست علی سمیجو اور پیار علی سمیجو نے کہا کہ وہ ماضی میں منشیات کے کاروبار سے وابستہ تھے، تاہم توبہ کرنے کے بعد یہ غیرقانونی دھندا مکمل طور پر چھوڑ چکے ہیں اور اب محنت مزدوری کرکے اپنے اہل خانہ کا گزر بسر کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ایس ایچ او فدا خاصخیلی انہیں دوبارہ منشیات کے کاروبار میں شامل ہونے پر مجبور کر رہے ہیں اور ہر ماہ منتھلی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انکار پر ان کے خلاف سات سے زائد جھوٹے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید مقدمات قائم کرنے اور "ہاف فرائی" کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، جس کے باعث ان کے اہل خانہ شدید خوف اور ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
متاثرین کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کسی بھی قسم کا نقصان پہنچا یا ان کے خلاف کوئی ناخوشگوار کارروائی کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایس ایچ او فدا خاصخیلی پر عائد ہوگی۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر انہوں نے آئی جی سندھ، ایس ایس پی ٹھٹھہ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
نوٹ: مذکورہ الزامات درخواست گزاروں کی جانب سے پریس کانفرنس میں عائد کیے گئے ہیں۔ متعلقہ پولیس حکام کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔




