حیدرآباد: سندھ ہائی کورٹ میں سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے کمیشن کی کارکردگی اور امتحانی عمل سے متعلق سخت ریمارکس دیتے ہوئے متعدد اہم سوالات اٹھائے، جبکہ کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
دورانِ سماعت جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے ریمارکس دیے کہ سندھ بھر میں ایس پی ایس سی کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی عوام کی جانب سے کمیشن کے خلاف شدید تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ عدالت نے کمیشن کے معاملات میں شفافیت سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔
عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی استفسار کیا کہ آیا ایس پی ایس سی کے معاملات کی نیب کے ذریعے تحقیقات کی جا سکتی ہیں۔ اس موقع پر موجود نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اگر شواہد موجود ہوں تو انکوائری کی گنجائش موجود ہے اور ماضی میں بھی ایسے مقدمات کی تحقیقات کی جا چکی ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ایس پی ایس سی کے وکیل سے انٹرویوز کی ریکارڈنگ پیش کرنے سے متعلق بھی استفسار کیا، تاہم وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فی الحال صرف تحریری امتحان کے نتائج جاری کیے گئے ہیں۔
جسٹس ذوالفقار علی سانگی نے CCE-2025 کے انعقاد کے حوالے سے بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب CCE-2024 سے متعلق عدالتی کارروائی جاری ہے تو نئے امتحان کے انعقاد میں جلد بازی کیوں کی جا رہی ہے۔ عدالت نے پرنسپل بینچ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا اور متعلقہ پیراگراف عدالت میں پڑھنے کی ہدایت کی۔
سماعت کے اختتام پر سندھ ہائی کورٹ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ حکم نامہ پرنسپل سیٹ کے مشاہدات اور قانونی نکات کی روشنی میں جاری کیا جائے گا۔ یہ مقدمہ سندھ میں سرکاری بھرتیوں کے نظام اور امتحانی عمل کی شفافیت کے حوالے سے اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔




