کراچی: جونیئر سائنس ٹیچر (JST) کے امیدواروں نے حکومتِ سندھ اور محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سے مطالبہ کیا ہے کہ جے ایس ٹی (سائنس) بھرتی پالیسی 2021 پر نظرثانی کرتے ہوئے پاسنگ مارکس 55 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد مقرر کیے جائیں اور 40 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے اہل امیدواروں کو بھرتی کے عمل میں شامل کیا جائے۔

امیدواروں کا کہنا ہے کہ حکومتِ سندھ ماضی میں بھی اساتذہ کی بھرتی پالیسی میں تبدیلی کرتے ہوئے پاسنگ معیار 55 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد مقرر کر چکی ہے تاکہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جا سکے اور زیادہ سے زیادہ اہل امیدواروں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بھرتی پالیسی 2021 میں 55 فیصد پاسنگ شرط کی وجہ سے ہزاروں اہل اور میرٹ پر پورا اترنے والے امیدوار صرف اس ایک شرط کے باعث بھرتی سے محروم رہ گئے، جبکہ اس وقت جونیئر سائنس ٹیچر (JST-14) کی ہزاروں آسامیاں خالی ہیں۔

امیدواروں نے مزید کہا کہ 2021 کی JST ٹیسٹ صرف 4 مضامین پر مشتمل تھی، جبکہ 2026 کی JST (سائنس) ٹیسٹ 8 مختلف مضامین سے لی گئی، جو پہلے کی نسبت زیادہ جامع اور مشکل تھی۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں 55 فیصد پاسنگ معیار برقرار رکھنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔

انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ پاکستان کے اعلیٰ ترین مقابلے کے امتحان CSS میں ہر لازمی مضمون کے لیے 40 فیصد اور مجموعی طور پر 50 فیصد پاسنگ معیار مقرر ہے، اس لیے JST (سائنس) کے لیے 55 فیصد شرط پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔

امیدواروں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ جونیئر سائنس ٹیچر (JST-14) کی خالی آسامیوں میں اضافہ کیا جائے، پاسنگ معیار 40 فیصد مقرر کیا جائے اور 40 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے تمام میرٹ پر پورا اترنے والے امیدواروں کو بھرتی کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔