سکھر: سکھر یونین آف جرنلسٹس (ایس یو جے) کے زیرِ اہتمام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے 76ویں یومِ تاسیس کے موقع پر سکھر پریس کلب میں ایک پروقار سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں صحافیوں، وکلا، سیاسی، سماجی، مذہبی، تاجر رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے آغاز میں شہید صحافی جان محمد مہر کی برسی کے موقع پر قرآن خوانی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری فنانس لالہ اسد پٹھان نے کہا کہ پی ایف یو جے گزشتہ 76 برس سے آزادیٔ صحافت، آزادیٔ اظہار، جمہوری اقدار اور صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں اور جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر آزادیٔ صحافت کے مشن سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔
سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی نے کہا کہ سکھر پریس کلب ہمیشہ آمریت، سنسرشپ اور آمرانہ رویوں کے خلاف جدوجہد کا مرکز رہا ہے اور صحافی برادری کے حقوق کے لیے ہر مشکل وقت میں کھڑا رہا ہے۔
سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانبھن نے کہا کہ پی ایف یو جے کی 76 سالہ جدوجہد صحافتی تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے شہید جان محمد مہر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
تقریب سے سحرش کھوکھر، غزالہ انجم، خورشید میرانی، جاوید میمن، قربان ملانو، راشد محمود سومرو اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے آزادیٔ صحافت، صحافیوں کے تحفظ، سنسرشپ کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور اظہارِ رائے کی آزادی پر زور دیتے ہوئے شہید جان محمد مہر سمیت تمام شہید صحافیوں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
سیمینار کے اختتام پر ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ، میڈیا پر ہر قسم کی سنسرشپ کے خاتمے، آزادیٔ صحافت کے فروغ اور شہید جان محمد مہر سمیت تمام شہید صحافیوں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ایف یو جے جمہوریت، آئین کی بالادستی اور آزاد صحافت کے لیے اپنی جدوجہد مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔




