لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف آج (جمعہ) ملک بھر میں 510 مقامات پر پرامن دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر احتجاج میں رکاوٹ ڈالی گئی تو یہ تحریک حکومت گراؤ مہم میں تبدیل ہو جائے گی۔
لاہور میں خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عوام پر مہنگائی اور ٹیکسوں کا مزید بوجھ ناقابل برداشت ہو چکا ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کرے اور پیٹرولیم لیوی ختم کرے۔
انہوں نے کہا کہ شام 4 بجے ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلیں گے جبکہ احتجاج صرف اور صرف پرامن ہوگا۔ ان کے مطابق دھرنوں کے دوران صرف ایمبولینسوں کو راستہ دیا جائے گا، تاہم اگر حکومت نے رکاوٹیں کھڑی کیں تو احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی موٹر سائیکلوں کے ساتھ احتجاج میں شریک ہوں، جبکہ پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے عوام سے بھی بھرپور شرکت کی درخواست کی۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ شاہراہِ ریشم، دیر، گوجرانوالہ، گجرات اور دیگر اہم شاہراہوں سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے تاکہ حکومت عوامی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور ہو۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیٹرولیم لیوی دراصل ٹیکس نہیں بلکہ عوام سے وصول کیا جانے والا بھتہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک لیٹر پیٹرول پر 125 روپے تک ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، جبکہ حکمران اپنی شاہ خرچیاں کم کرنے کے بجائے تمام بوجھ عوام پر منتقل کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق لیوی کی مد میں اب تک تقریباً 8 ہزار ارب روپے وصول کیے جا چکے ہیں، لیکن اس رقم کا فائدہ نہ آئل ریفائنریز کو پہنچا اور نہ ہی پٹرولیم انفراسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا گیا۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور معیشت پر بڑھتا ہوا دباؤ کم ہو۔




