راولپنڈی: آئیسکو کی آڈٹ رپورٹ اپنے حق میں مرتب کرانے کے لیے مبینہ طور پر رشوت دینے کے مقدمے میں عدالت نے پانچ ملزمان کو سترہ، سترہ سال قید بامشقت کی سزا سنا دی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے 30 اگست 2024 کو کارروائی کرتے ہوئے آئیسکو کے تین ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسرز اور دو آڈٹ آفیسرز کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے برآمد ہوئے تھے، جو مبینہ طور پر سال 2019 سے 2024 تک کی بیرونی آڈٹ رپورٹ اپنے حق میں سازگار بنوانے کے عوض بطور رشوت دیے جا رہے تھے۔
اس معاملے پر ایف آئی آر نمبر 153/2024 تعزیرات پاکستان کی دفعات 161، 162، 163، 109 اور پریوینشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کی گئی تھی۔
17 جولائی 2026 کو اسپیشل جج سینٹرل راولپنڈی عبدالرحمٰن محمد عارف نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان زیشان علی اکبر، نذر حسین، اشتیاق احمد، جہانگیر احمد اور ثاقب ظہیر کو سترہ، سترہ سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے برآمد ہونے والی ایک کروڑ 4 لاکھ 75 ہزار روپے کی رقم سرکاری خزانے میں ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق مقدمے کی کامیاب تفتیش اور پیروی میں انویسٹی گیشن آفیسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوہیب نیازی اور لاء آفیسر اسسٹنٹ ڈائریکٹر صلاح الدین نے اہم کردار ادا کیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف ایف آئی اے کے مؤثر اقدامات کی عکاسی کرتا ہے۔




