لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز ایک دوسرے کی حقیقت عوام کے سامنے لا رہے ہیں اور دونوں خود انتخابی دھاندلی کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو خود دعویٰ کر رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) صرف 17 نشستیں جیتی ہے، جبکہ اگر انتخابی نتائج پر اعتراضات ہیں تو پیپلز پارٹی کو بھی اپنے فارم 45 عوام کے سامنے رکھنے چاہییں تاکہ حقیقت واضح ہو سکے۔

انہوں نے کراچی کے انتخابی نتائج پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کی نشستوں کی تقسیم اور ایم کیو ایم کی کامیابیوں پر بھی کئی سوالات موجود ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر ٹیکس اہداف پورے کرنے میں ناکام ہے، لیکن اس کا بوجھ عام شہریوں پر ڈالا جا رہا ہے۔ ان کے بقول پٹرولیم لیوی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور مسلسل ٹیکسوں نے عوام، خصوصاً کسانوں اور متوسط طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بیوروکریسی، اعلیٰ سرکاری افسران اور منتخب نمائندے بھی معاشی مشکلات کے دوران قربانی دیں، جبکہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی اپنی مراعات بڑھانے پر تو متفق ہو جاتے ہیں، لیکن عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی دکھائی نہیں دیتی۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 7 اگست کو جماعت اسلامی کی جانب سے ملک بھر میں پرامن سیاسی مزاحمت کی جائے گی، جس کے تحت کراچی سے خیبر تک شاہراہوں پر احتجاج ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرامن جمہوری احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔