اسلام آباد: آڈٹ رپورٹ 2025-26 میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے مالی معاملات میں متعدد بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیب ہیڈکوارٹر نے 27 کروڑ 79 لاکھ روپے کی ادائیگیاں ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ کے بجائے ریگولر بجٹ سے کیں، جو قواعد کے خلاف قرار دی گئی ہیں۔
آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ ادائیگیاں قانونی افسران، مشیروں اور ماہرین کو کی گئیں، جبکہ متعلقہ اخراجات ریکوری اینڈ ریوارڈ فنڈ سے کیے جانے چاہیے تھے۔ آڈیٹرز نے نیب انتظامیہ کی وضاحت کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریگولر بجٹ کا استعمال فنڈ کے اصل مقصد کو متاثر کرتا ہے اور متعلقہ قواعد پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جانا چاہیے۔
رپورٹ میں نیب پشاور سے متعلق بھی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق 4 کروڑ 69 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے چیئرمین نیب کے ذاتی اکاؤنٹ میں رکھے گئے، جسے آڈیٹرز نے قانون اور مالیاتی ضوابط کے منافی قرار دیا ہے۔
آڈیٹرز نے اس اقدام پر سخت اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قومی خزانے کو واجب الادا آمدن سے محروم رکھا گیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مذکورہ رقم فوری طور پر سرکاری خزانے میں جمع کرائی جائے اور مستقبل میں ریکوری اینڈ ریوارڈ رولز پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔




