کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کے معاملے پر 13 سال بعد فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے شازیہ مری کی نااہلی سے متعلق درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ کو نااہل قرار دینے کا اختیار ہائیکورٹ کے پاس نہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ شازیہ مری نے ایک ہم نام طالبہ کی 2002 کی ڈگری اپنے نام سے استعمال کی۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسی نوعیت کا اعتراض 2018 کے عام انتخابات کے دوران الیکشن ٹربیونل کے سامنے بھی اٹھایا جاچکا ہے۔
عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن نے 2022 میں شازیہ مری کی ڈگری سے متعلق اعتراض مسترد کردیا تھا، جبکہ الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر اپیل 2023 میں واپس لیے جانے پر خارج کردی گئی تھی۔
شازیہ مری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈگری کا معاملہ پہلے ہی الیکشن کمیشن کے سامنے شواہد کے ساتھ زیرِ بحث آچکا ہے اور کمیشن درخواست مسترد کرچکا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ کسی شخص کو نااہل قرار دینے کے لیے محض آئینی درخواست کافی نہیں، جبکہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں موجودہ درخواست قابلِ سماعت نہیں۔




