نواب شاہ: شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی شہید بینظیرآباد کے شعبہ سندھی زبان و ادب کے زیرِ اہتمام سندھ کی جامعات کی تاریخ میں پہلی بار ”بچوں کے ادب میں تخلیق، تحقیق اور مصنوعی ذہانت“ کے عنوان سے ایک روزہ علمی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت وائس چانسلر انجینئر پروفیسر ڈاکٹر مدد علی شاہ نے کی۔

کانفرنس میں ایاز گل، ڈاکٹر ادل سومرو، مختیار ملک، ڈاکٹر شیر مہراڻوی، یاسر قاضی، وفا مولا بخش، امر اقبال، سعید سمیجو، قربان منگی، خالد آزاد وگھيو سمیت معروف ادیبوں، شاعروں اور محققین نے شرکت کی اور بچوں کے ادب کے تخلیقی، تحقیقی اور فنی پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔

وائس چانسلر ڈاکٹر مدد علی شاہ نے کہا کہ بچوں کا ادب کسی بھی معاشرے کی فکری، علمی اور اخلاقی تربیت کی بنیاد ہے۔ سندھی زبان میں بچوں کے ادب اور تحقیق کو جدید تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مصنوعی ذہانت تعلیم، تحقیق اور ادب میں نئے مواقع فراہم کر رہی ہے، تاہم ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ انسانی فکر، تخلیقی صلاحیت اور زبان کی اصل روح برقرار رکھنا ضروری ہے۔

مقررین نے بچوں کی کتابوں میں سندھ کی تاریخ، لوک ادب، ثقافت، سائنس اور ماحولیاتی شعور جیسے موضوعات شامل کرنے پر زور دیا۔ کانفرنس میں سندھی زبان میں ڈیجیٹل مواد کی تیاری، معیاری کتابوں کی اشاعت، نئے لکھاریوں کی تربیت اور جامعات، ادیبوں اور ناشرین کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔