سکھر: ایڈیشنل سیشن جج جاوید حسین میرانی، ان کی اہلیہ اور کمسن بچوں پر سرکاری رہائش گاہ کے قریب مبینہ حملے کے واقعے پر وکلاء برادری نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
وکلاء برادری کے مطابق مبینہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایڈیشنل سیشن جج اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ ڈسٹرکٹ کورٹس سکھر کے احاطے میں واقع سرکاری رہائش گاہ واپس پہنچ رہے تھے۔ اس دوران مرد و خواتین پر مشتمل ایک گروپ مبینہ طور پر مرکزی گیٹ پر موجود تھا اور اس نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔
قانونی برادری نے الزام عائد کیا کہ واقعے کا آغاز ڈسٹرکٹ کورٹس کے ایک ملازم کی جانب سے ہوا اور اجتماع مبینہ طور پر منظم تھا۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ یا عدالتی سطح پر تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
وکلاء رہنماؤں نے پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر فوری کارروائی نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
وکلاء نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ سے واقعے کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج جاوید حسین میرانی اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے مناسب سکیورٹی انتظامات کا بھی مطالبہ کیا۔
قانونی برادری کا کہنا ہے کہ عدالتی افسران کو دباؤ، دھمکی یا مداخلت سے محفوظ ماحول فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے آئینی اور قانونی فرائض آزادانہ طور پر انجام دے سکیں۔




