اسلام آباد: حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے سانحے پر حکومت اور اسپتال انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

مشال ملک اپنی بیٹی کے ہمراہ پمز اسپتال پہنچیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے اندر جانے کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے احتجاج کیا۔ میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اور ان کی بیٹی کو وارڈ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

مشال ملک نے پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے میں نومولود بچوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پورا پاکستان اس سانحے پر غمزدہ ہے، جبکہ ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پمز میں پیش آنے والا سانحہ انسانی غفلت کا نتیجہ ہے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ مشال ملک نے وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے فوری استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

مشال ملک نے مزید دعویٰ کیا کہ 2005 میں ان کے والد کو پمز اسپتال میں ڈاکٹر کی جانب سے غلط دوا دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ مشال ملک کے یہ بیانات اور الزامات ان کے اپنے دعووں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ طور پر تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔