اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد متاثرہ والدین نے اسپتال انتظامیہ اور عملے کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایک متاثرہ والدہ نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔
متاثرہ والدہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نرسری کو لاک کرکے عملہ کیوں چلا گیا؟ ان کے مطابق بچوں کو جلایا گیا یا غائب کیا گیا، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آگ کے نتیجے میں صرف بچے متاثر ہوئے جبکہ ڈاکٹرز، نرسز اور دیگر اسٹاف میں سے کسی کو خراش تک نہیں آئی۔
والدہ کا کہنا تھا کہ مبینہ طور پر عملے کی جانب سے کہا گیا کہ ’’ہم بڑے لوگوں کو بچا رہے تھے‘‘، جبکہ ریسکیو ٹیمیں دو گھنٹے اور پولیس چار گھنٹے بعد پہنچی۔ انہوں نے اسپتال میں مبینہ انتظامی غفلت اور عملے کے رویے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
پمز انتظامیہ: آگ کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیںدوسری جانب ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز کے مطابق آتشزدگی کے واقعے میں نومولود بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے، جبکہ ایک نومولود اور متعدد افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔
پمز انتظامیہ کے مطابق واقعے کے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جائیں گی اور حقائق سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ داری کا تعین ممکن ہوگا۔
نوٹ: متاثرہ والدہ کی جانب سے جان بوجھ کر آگ لگانے، نرسری لاک ہونے اور ریسکیو و پولیس کی تاخیر سے متعلق الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔




