کراچی: ملیر بار ایسوسی ایشن نے کوٹ لالو کے رہائشی جسمانی معذور نوجوان رضوان شر سے متعلق مبینہ واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی غیرجانبدار، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ملیر بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 24 اگست 2026 کو جاری کردہ مذمتی بیان میں کہا گیا ہے کہ رضوان شر مبینہ طور پر اپنے بھائی کے ہمراہ طبی علاج کے لیے پنجاب جا رہا تھا، جب اسے رحیم یار خان پولیس نے ٹرین سے زبردستی اتارا۔

بیان کے مطابق رضوان شر کو مبینہ طور پر اہل خانہ کی موجودگی میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں پولیس حراست میں لے لیا گیا، جہاں اسے مبینہ طور پر پولیس مقابلے میں ہلاک کیے جانے کا دعویٰ سامنے آیا۔

ملیر بار ایسوسی ایشن نے پولیس مقابلے کو مبینہ طور پر جعلی قرار دیے جانے اور رضوان شر کو غلط طور پر جرائم پیشہ شخص ظاہر کرنے کے الزامات پر پولیس طرزِ عمل، قانونی تقاضوں اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔

ایسوسی ایشن نے وزیراعلیٰ پنجاب اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی فوری طور پر منصفانہ، شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات، میڈیکل و فرانزک ریکارڈ اور پولیس ریکارڈ سمیت تمام دستیاب شواہد کا مکمل جائزہ لینے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ اگر غیرقانونی حراست، تشدد، قتل، شواہد میں جعلسازی یا جعلی پولیس مقابلے کے الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو ذمہ دار اہلکاروں اور دیگر افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے سخت ترین سزا دی جائے۔

ملیر بار ایسوسی ایشن نے سوگوار خاندان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں اور آئینی معاشرے میں ماورائے عدالت قتل اور پولیس اختیارات کے غلط استعمال کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔