اسلام آباد: سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی سندھ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر آئی جی سندھ کے ساتھ ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور ڈی آئی جی سکھر بھی عدالت میں پیش ہوں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے سندھ میں قتل کے مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جزا و سزا کا تصور نہیں، سندھ پولیس خود لوگوں کو بری کروا رہی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک مقدمے میں قتل کے دو روز بعد ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ کئی کیسز میں پولیس مقدمات کے اندراج سے گریز کرتی ہے۔

جسٹس صلاح الدین نے سکھر اور لاڑکانہ میں امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں علاقوں کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔

سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت 21 ستمبر تک ملتوی کردی۔