رحیم یار خان: ڈی پی او رحیم یار خان عرفان سموں نے کہا ہے کہ پولیس مقابلے میں مارا جانے والا رضوان عرف رضو شر کوئی معصوم شہری نہیں تھا بلکہ وہ مبینہ طور پر مطلوب ڈاکو تھا، جس پر 50 لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔

ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق رضوان عرف رضو شر مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری کے لیے 50 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ رضوان شر پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔

ڈی پی او نے رضوان شر کو بے گناہ شہری قرار دینے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کے پاس اس کے جرائم اور مطلوب ہونے سے متعلق ریکارڈ موجود ہے۔

دوسری جانب رضوان شر کے اہلِ خانہ کی جانب سے پولیس کے مؤقف پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور نوجوان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

واقعے کے حوالے سے پولیس اور رضوان شر کے اہلِ خانہ کے مؤقف میں واضح اختلاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث معاملے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔