فیض گنج: فیض گنج کے رہائشی رضوان شر کو اہلِ خانہ کے مطابق علاج کے لیے رحیم یار خان جاتے ہوئے پنجاب پولیس نے مبینہ طور پر ٹرین سے اتار لیا، بعد ازاں اسے ڈاکو قرار دے کر ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ رضوان شر ٹانگ سے معذور تھا اور وہ اپنے خاندان کے ہمراہ علاج کے سلسلے میں رحیم یار خان جا رہا تھا۔ ان کے مطابق راستے میں پنجاب پولیس نے اسے ٹرین سے اتارا، جس کے بعد مبینہ طور پر اسے ایک پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔
واقعے پر اہلِ خانہ اور علاقہ مکینوں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ رضوان شر کو بے گناہ ہونے کے باوجود ڈاکو ظاہر کیا گیا اور مبینہ جعلی مقابلے میں قتل کیا گیا۔
متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، رضوان شر کو مبینہ طور پر مقابلے میں مارنے کے واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اہلِ خانہ نے وکلا اور صحافی برادری سمیت باشعور شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کی آواز بلند کریں اور خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔




