اسلام آباد، 28 اگست 2026: حکومت نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیم نو) ترمیمی بل 2026 سینیٹ سے واپس لے لیا۔
سینیٹ اجلاس میں بل واپس لینے کی تحریک وزیر مملکت طلال چوہدری نے پیش کی، جسے منظور کرلیا گیا۔ حکومت کی جانب سے بل واپس لینے کی بنیادی وجہ ٹیلی کام شعبے کو درپیش رائٹ آف وے کے دیرینہ مسائل کا مؤثر حل نہ ہونا قرار دی گئی ہے۔
مجوزہ بل 15 جون 2026 کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت رائٹ آف وے کے نظام میں ترامیم تجویز کی گئی تھیں۔
بل میں رائٹ آف وے کی منظوری کے لیے مقررہ مدت، پراپرٹی مینیجرز اور سرکاری اداروں کے لیے 30 روز میں جواب جبکہ ریفر کیے گئے معاملات پر متعلقہ حکومت کو 45 روز میں فیصلہ کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔
مجوزہ قانون میں سرکاری اور مشترکہ ترقیاتی املاک پر زیرِ زمین رائٹ آف وے مفت فراہم کرنے اور رائٹ آف وے میں غیر قانونی رکاوٹ ڈالنے پر جرمانوں کی تجاویز بھی شامل تھیں۔




