اسلام آباد: پمز اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچے کے والد نے اسپتال انتظامیہ پر سنگین غفلت کے الزامات عائد کیے ہیں۔

متاثرہ والد کا کہنا ہے کہ جب سب کچھ ختم ہوگیا تب آگ پر قابو پایا گیا، ہم نے اپنے ہاتھوں سے شیشے توڑے۔ ان کے مطابق نرسری میں فائر الارم موجود نہیں تھے اور آگ لگنے کے وقت انتظامیہ کا کوئی نمائندہ موقع پر نظر نہیں آیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نرسری کے اندر کئی تالے لگے ہوئے تھے اور انہیں توڑنے کے لیے بھی کوئی شخص موجود نہیں تھا۔ والد کا کہنا تھا کہ اہل خانہ نے اپنی مدد آپ کے تحت شیشے توڑ کر بچوں تک پہنچنے کی کوشش کی۔

’’وارڈ میں 15 بچے ہونے کا دعویٰ درست نہیں‘‘

متاثرہ والد نے اسپتال انتظامیہ کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا کہ آتشزدگی کے وقت نرسری میں 15 یا 16 بچے موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں کہ وارڈ میں صرف 15 بچے تھے۔

والد کے مطابق جب وہ اپنے بیٹے کو اسپتال لائے تھے تو نرسری میں کم از کم 100 بچے موجود تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے نرسری میں موجود بچوں کی اصل تعداد اور آتشزدگی کے دوران پیش آنے والے واقعات کے حقائق سامنے لائے جائیں۔

متاثرہ والد کے یہ الزامات تاحال آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوسکے، جبکہ واقعے کی حتمی تفصیلات انکوائری مکمل ہونے کے بعد سامنے آسکیں گی۔